اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سید عبدالملک الحوثی نے متعدد بیانات جاری کرکے یمن کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے اور یمن کی سیاسی جماعتوں نے الحوثی کے اقدام کو سراہا ہے مگر یمنی حکومت اور سعودی عرب نے جنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور آج بھی حملے جاری رہے۔ حکومت یمن نے اس سے قبل جنگ بندی کی پیشکش قبول کرنے کے لئے چھ شرطوں کا اعلان کیا تھا اور یہ شرطیں شیعہ مزاحمت کاروں نے قبول کی تھیں مگر سرکاری حملے جاری رہے اور کئی نہتے شہری یمنی حکومت کے حملوں کے نتیجے میں خون میں نہا گئے۔ حکومت یمن نے کہا ہے: چونکہ حوثیوں نے جنگ بندی کے لئے حکومت کی طرف سے کاروائیاں بند کرنے کی شرط لگائی تھی لہذا حکومت یمن جنگ بندی کی پیشکش کو ہی مسترد کرتی ہے۔ یمنی حکومت کے ایک ترجمان نے سعودی عرب کی طرف سے شیعہ علاقوں پر جاری حملوں کا ذکر کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا: حوثیوں نے سعودی عرب پر بھی حملی بند نہیں کئے ہیں۔ گویا یمنیوں اور سعودیوں نے صہیونیوں کی منطق میں بولنا شروع کیا ہے جو غزہ کو تباہ و برباد کررہی تھے اور اگر غزہ کے مدافعین ایک مارٹر گولہ بھی پھینکتے تو اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر شور مچانے لگتا کہ وہ حملے کیوں کرتے ہیں؟!!سعودی عرب نے بھی کہا ہے کہ سعودی فوجیوں اور حوثیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔دوسری طرف سے سیدعبدالملک الحوثی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی حکومت اور سعودی افواج نے شیعہ علاقوں پر اپنی جارحیت آج بھی جاری رکھی ہوئی ہے اور شیعہ مجاہدین نے سعودی توپخانے کا توپخانے کا فائرنگ کرکے جواب دیا ہے مگر انھوں نے جنگ میں پہل نہیں کی ہے۔اس بیان کے مطابق آج سعودی طیاروں نے "الحصامة مثلث شدا، اور الملاحيط" پر 9، "خميس المحور" پر سات اور "بني معاذ اور العند" پر دو حملے کئے ہیں۔ جبکہ یمنی طیاروں نے "المقاش" پر دو حملے کئے ہیں۔ اس بیان کے مطابق یمنی افواج نے آج صبح سات بجے سے "ظہر الحمار" کے علاقے پر حملہ کیا اور جھڑپیں 12 بجے دوپہر تک جاری رہیں اور اللہ کی مدد سے یہ حملہ ناکام ہوا اور اسی دوران سعودی افواج نے "الملاحيط، شدا، الحصامة، بني صياح اور جبل ظہر الحمار" کو 820 میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف سے یمنی افواج نے آج صبح "صباح" کے علاقے پر حملہ کرنے کی تیاری کرلی تھی مگر حملے کی تیاری کرنے والے فوجی دستوں کو مجاہدین کے شدید حملے کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں علاقے سے مار بھگایا گیا جس کے نتیجے میں سرکاری افواج کا یہ اقدام آغاز سے قبل ہی انجام کو پہنچا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر سعودی اور یمنی حکمران سچ بول رہے ہیں تو علاقے سے ناکہ بندی اٹھا کر عالمی ذرائع ابلاغ کو علاقے میں آنے کیوں نہیں دیتے تا کہ دنیا بھی جان لے کہ حقیقت کیا ہے۔ بیان میں تأکید ہوئی ہے کہ حکومت کی طرف سے مجاہدین پر لگائے گئے الزامات نئے نہیں ہیں بلکہ ابتداء ہی سے یہی اس کی منطق ہے اور وہ اسی منطق کے مطابق اپنے بے گناہ شہریوں کو موت کی نیند سلا رہی ہے جبکہ شیعہ مجاہدین نہ تو تخریبکاری پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی بےگناہ لوگوں پر حملے کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر مجاہدین کی طرف سے کوئی حملہ نہیں ہوا اور سعودی عرب کے بیانات کا مقصد یہ ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں اور جارحیت سے اجتناب کے لئے تیار نہیں ہیں اور شیعہ مجاہدین کی طرف سے حملے کا افواہ ارا کر شیعہ علاقوں پر حملوں کے لئے جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 177579
یمنیوں کا قتل عام کل بھی جاری رہا اور آج بھی حملے جاری ہیں اور یمنی حکومت نے حوثیوں کی خیر سگالی پر مبنی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کی ہے۔